اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق القدس العربی نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت شام اور اسرائیل مخالف محاذ مزاحمت کے خلاف برسرپیکار دہشت گردوں نے یہودی ریاست کے ساتھ پھینگیں بڑھا دی ہیں اور مقبوضہ فلسطین اور اردن میں ان کے درمیان ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔واضح رہے کہ امریکہ، یورپ، ترکی اور بعض ممالک کی حمایت میں حکومت شام کے خلاف لڑنے والے دہشت گرد اعلانیہ طور پر اسرائیل کے تحفظ کے لئے لڑ رہے ہیں اور اسرائیلی ٹیلی ویژن کے مختلف چینلوں کے نامہ نگار دہشت گردوں کے ساتھ باقاعدہ خفیہ ٹھکانوں میں بسیرا کئے ہوئے ہیں اور حال ہی میں اسرائیلی ٹیلی ویژن کی ایک رپورٹ سے ماخوذ ایک ویڈیو کلپ میں ایک دہشت گرد کمانڈر نے کہا تھا: ہم صدر بشار اسد کے دشمن ہیں اور اگر صبرا و شتیلا میں فلسطینیوں کا قتل عام کرنے والا "ایریل شیرون" بھی بشار اسد کا دشمن ہو تو ہم اس کے پاؤں چومنے کے لئے تیار ہیں"۔ العالم کے مطابق اس خفیہ رابطے میں واسطے کا کردار اردن کی خفیہ ایجنسیاں ادا کررہی ہیں اور اس رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے شام میں امریکہ کے ساتھ مل کر شام میں مشترکہ مداخلت کے لئے تمام تر اسباب و مقدمات فراہم کئے ہیں۔اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اردن کے سرحدی قبائل اردن کی خفیہ ایجنسیوں کے کہنے پر دہشت گردوں کو مقبوضہ فلسطین میں داخلے کی سہولیات فراہم کررہے ہیں۔مذاکرات کے آخری دور میں شام کے مقبوضہ علاقے جولان کے تحفظ کے لئے امریکی ـ اسرائیلی منصوبے پر بات چیت ہوئی۔ اسی اثناء میں اردن کے قبائلی محاذ (Tribal Front) نے دہشت گرد ٹولوں کے کمانڈروں کو اردن کے راستے مقبوضہ فلسطین میں آمد و رفت کی سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔ان مذاکرات میں دہشت گردوں نے صہیونی ـ یہودی ریاست کے ساتھ اتفاق کیا ہے کہ وہ 1965 میں شام کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے صہیونی جاسوس "ایلی کوہن" کے جسد کی باقیات ڈھونڈنے میں اسرائیل کے ساتھ تعاون کریں گے۔ ............./110
لنکس:
اسرائیل کی خوشنودی مقصود ہے؛ سیدحسن نصر اللہ کے قتل کے لئے انعام کا تعین / ویڈیولنک
کیا تمام عرب ممالک امریکہ اور اسرائیل کے کیمپ میں چلے گئے ہیں؟